Tuesday, May 21, 2019

Ghareeb Maasoom Bachay ki Nanni Dukan

🎇🌹🥀🌻🌴🎆🎄🎄🎆🌴🌻🥀🌹🎇🎇🌹🥀🌻🌴🎆🎄🎄🎆🌴🌻🥀🌹🎇

*ننھی دکان*


میں نے دیکھا کہ ماں اپنے بیٹے کو آہستہ سے مارتی اور بچے کے ساتھ خود بھی رونے لگتی۔ میں نے آگے ہو کر پوچھا بہن کیوں بچے کو مار رہی ہو جبکہ خود بھی روتی ہو۔۔۔۔۔
اس نے جواب دیا کہ بھائی آپ کو تو معلوم ہے کہ اس کے والد اللہ کو پیارے ہو گئے ہیں اور ہم بہت غریب بھی ہیں۔ میں لوگوں کے گھروں میں مزدوری کرتی ہوں اور اس کی پڑھائی کا مشکل سے خرچ اٹھاتی ہوں۔ یہ کم بخت سکول روزانہ دیر سے جاتا ہے اور روزانہ گھر دیر سے آتا ہے۔ جاتے ہوئے راستے میں کہیں کھیل کود میں لگ جاتا ہے اور پڑھائی کی طرف ذرا بھی توجہ نہی دیتا۔ جس کی وجہ سے روزانہ اپنی سکول کی وردی گندی کر لیتا ہے۔ میں نے بچے اور اس کی ماں  کو تھوڑا سمجھایا اور چل دیا۔۔۔۔
ایک دن صبح صبح سبزی منڈی کچھ سبزی وغیرہ لینے گیا تو اچانک میری نظر اسی دس سالہ بچے پر پڑی جو روزانہ گھر سے مار کھاتا تھا۔ کیا دیکھتا ہوں کہ وہ بچہ منڈی میں پھر رہا ہے اور جو دوکاندار اپنی دوکانوں کے لیے سبزی خرید کر  اپنی بوریوں میں ڈالتے تو ان سے کوئی سبزی زمین پر گر جاتی اور وہ بچہ اسے فوراً اٹھا کر اپنی جھولی میں ڈال لیتا۔ میں یہ ماجرہ دیکھ کر پریشانی میں مبتلا ہو رہا تھا کہ چکر کیا ہے۔ میں اس بچے کو چوری چوری فالو کرنے لگا۔جب اس کی جھولی سبزی سے بھر گئی تو وہ سڑک کے کنارے بیٹھ کر اونچی اونچی آوازیں لگا کر اسے بیچنے لگا۔ منہ پر مٹی گندی وردی اور آنکھوں میں نمی کے ساتھ ایسا دونکاندار زندگی میں پہلی بار دیکھ رہا تھا۔۔۔
دیکھتے دیکھتے اچانک ایک آدمی اپنی دوکان سے اٹھا جس کی دوکان کے سامنے اس بچے نے ننھی سی دکان لگائی تھی۔ اس شخص نے آتے ہی ایک زور دار پاؤں مار کر اس ننھی سی دکان کو ایک ہی جھٹکے میں ساری سڑک پر پھیلا دیا اور بازو سے پکڑ کر اس بچے کو بھی اٹھا کر دھکا دے دیا۔ ننھا دکاندار آنکھوں میں آنسو لیے دوبارہ اپنی سبزی کو اکٹھا کرنے لگا اور تھوڑی دیر بعد اپنی سبزی کسی دوسری دکان کے سامنے ڈرتے ڈرتے لگا لی۔بھلا ہو اس شخص کا  جس کی دکان کے سامنے اب اس نے اپنی ننھی دکان لگائی اس شخص نے اس بچے کو کچھ نہی کہا۔ تھوڑی سی سبزی تھی جلد ہی فروخت ہو گئی۔اور وہ بچہ اٹھا اور بازار میں ایک کپڑے والی دکان میں داخل ہوا اور دکان دار کو وہ پیسے دیکر  دکان میں پڑا اپنا سکول بیگ اٹھایا اور بنا کچھ کہے سکول کی جانب چل دیا۔  میں بھی اس کے پیچھے پیچھے چل رہا تھا۔ جب وہ بچہ سکول گیا تو ایک گھنٹا دیر ہو چکی تھی۔ جس پر اس کے استاد نے ڈنڈے  سے اسے خوب مارا۔ میں نے جلدی سے جا کر استاد کو منع کیا کہ یتیم بچہ ہے اسے مت مارو۔ استاد فرمانے لگے کہ سر یہ روزانہ ایک گھنٹا دیر سے آتا ہے میں روزانہ اسے سزا دیتا ہوں کہ ڈر سے سکول ٹائم پر آئے اور کئی بار میں اس کے گھر بھی پیغام دے چکا ہوں۔ بچہ مار کھانے کے بعد کلاس میں بیٹھ کر پڑھنے لگا۔ میں نے اس کے استاد کا موبائل نمبر لیا اور گھر کی طرف چل دیا۔ گھر جاکر معلوم ہوا کہ میں جو سبزی لینے گیا تھا وہ تو بھول ہی گیا ہوں۔
حسب معمول بچے نے سکول سے گھر آکر ماں سے ایک بار پھر مار کھائی ھو گی۔ ساری رات میرا سر چکراتا رہا۔ اگلے دن صبح کی نماز ادا کی اور فوراً بچے کے استاد کو کال کی کہ منڈی ٹائم ہر حالت میں منڈی پہنچے۔ جس پر مجھے مثبت جواب ملا۔ سورج نکلا اور بچے کا سکول جانے کا وقت ہوا اور بچہ گھر سے سیدھا منڈی اپنی ننھی دکان کا بندوبست کرنے نکلا۔ میں نے اس کے گھر جا کر اس کی والدہ کو کہا کہ بہن میرے ساتھ چلو میں تمہیں بتاتا ہوں آپ کا بیٹا سکول کیوں دیر سے جاتا ہے۔ وہ فوراً میرے ساتھ منہ میں یہ کہتے ہوئے چل پڑی کہ آج اس لڑکے کی میرے ہاتھوں خیر نہی۔چھوڑوں گی نہیں اسے آج۔منڈی میں لڑکے کا استاد بھی آچکا تھا۔ ہم تینوں نے منڈی کی تین مختلف جگہوں پر پوزیشنیں سنبھال لیں اور ننھی دکان والے کو چھپ کر دیکھنے لگے۔ حسب معمول آج بھی اسے کافی لوگوں سے جھڑکیں لینی پڑیں اور آخر کار وہ لڑکا اپنی سبزی فروخت کر کے کپڑے والی دکان کی طرف چل دیا۔۔۔۔۔
اچانک میری نظر اس کی ماں پر پڑی تو کیا دیکھتا ہوں کہ بہت ہی درد بھری سیسکیاں لے کر زاروقطار رو رہی تھی اور میں نے  فوراً اس کے استاد کی طرف دیکھا تو بہت شدت سے اس کے آنسو بہہ رہے تھے۔دونوں کے رونے میں مجھے ایسا لگ رہا تھا جیسے انہوں نے کسی مظلوم پر بہت ظلم کیا ہو اور آج ان کو اپنی غلطی کا احساس ہو رہا ہو۔
اس کی ماں روتے روتے گھر چلی گئی اور استاد بھی سسکیاں لیتے ہوئے سکول چلا گیا۔ حسب معمول بچے نے دکان دار کو پیسے دیے اور آج اس کو دکان دار نے ایک لیڈی سوٹ دیتے ہوئے کہا کہ بیٹا آج سوٹ کے سارے پیسے پورے ہوگئے ہیں۔ اپنا سوٹ لے لو۔ بچے نے اس سوٹ کو پکڑ کر سکول بیگ میں رکھا اور سکول چلا گیا۔ آج بھی ایک گھنٹا لیٹ تھا وہ سیدھا استاد کے پاس گیا اور بیگ ڈیسک پر رکھ کر مار کھانے کے لیے پوزیشن سنبھال لی اور ہاتھ آگئے بڑھا دیے کہ استاد ڈنڈے سے اس کو مار لے۔استاد کرسی سے اٹھا اور فوراً بچے کو گلے لگا کر اس قدر زور سے رویا کہ میں بھی دیکھ کر اپنے آنسوؤں پر قابو نہ رکھ سکا۔ میں نے اپنے آپ کو سنبھالا اور آگے بڑھ کر استاد کو چپ کرایا اور بچے سے پوچھا کہ یہ جو بیگ میں سوٹ ہے وہ کس کے لیے ہے۔ بچے نے جواب دیا کہ میری ماں امیر لوگوں کے گھروں میں مزدوری کرنے جاتی ہے اور اس کے کپڑے پھٹے ہوئے ہوتے ہیں۔ اس کے پاس جسم کو مکمل ڈھانپنے والا کوئ سوٹ نہی ہے اس لیے میں نے اپنی ماں کے لیے یہ سوٹ خریدا ہے۔ یہ سوٹ اب گھر لے جا کر ماں کو دو گے؟؟؟ میں نے بچے سے سوال پوچھا ۔۔۔۔جواب نے میرے اور اس کے استاد کے پیروں کے نیچے سی زمین ہی نکال دی۔۔۔۔ بچے نے جواب دیا نہیں انکل جی چھٹی کے بعد میں اسے درزی کو سلائی کے لیے دے دوں گا اور روزانہ تھوڑے تھوڑے پیسے جمع کر کے سلائی دوں گا جب سلائی کے پیسے پورے ہوجائیں گئے تب میں اسے اپنی ماں کو دوں گا۔۔۔۔۔
استاد اور میں یہ سوچ کر روتے جا رہے تھے کہ ابھی اس معصوم کو اور منڈی جانا پڑے گا، اور لوگوں سے دھکے کھانے پڑیں گے اور ننھی دکان لگانی پڑے گی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔آخر کب تک غریبوں کے بچے ننھی دکانیں لگاتے رہیں گے۔آخر کب تک۔۔۔۔
...........
اس واقعہ سے ان لوگوں کو عبرت حاصل کرنی چاہیے جن کے پاس رب کا دیا سب کچھ ہے مگر نا شکری ان کی زبانوں سے جاتی نہیں اور حرس و حوَس کم نہیں ہوتی
*لاجواب تحریر منصف کا نام تو نہیں جانتا ابھی ہی ایک دوست نے مجھ کو سینڈ کی ہے*
اپنی اور معاشرے کی بے حسی دیکھ بہت رونا آیا 
کاش 
*ہم یہ سمجھ سکتے*
*اللہ ہم سب ایسے مجبور اور بے سہارا لوگوں کی مدد کرنے کی توفیق دے آمین ثم آمین*

🎇🌹🥀🌻🌴🎆🎄🎄🎆🌴🌻🥀🌹🎇🎇🌹🥀🌻🌴🎆🎄🎄🎆🌴🌻🥀🌹🎇

Friday, May 10, 2019

Muflisi say Lafani Dolat tak

🎇🌹🌴🎆🎄🎍🌻🎍🎄🎆🌴🥀🌹🎇🌹🥀🌴🎆🎄🎍🌻🎍🎄🎆🌴🌹🎇

مفلسی سے لافانی دولت تک

مدینہ منورہ پہنچے دوسرا روز تھا,حرم مدنی میں ظہر کی نماز ادا کرکے روضہ پاک پر سلام کرنے قطار میں کھڑے ہو ئے جلد ہی باری آگئی.سلام سے فارغ ہوتے ہی ٹھنڈے پسینے آنے لگے,شوگرلیول بری طرح گرنے لگا تھا.زبان لڑکھڑانے لگی تھی.میں نے بمشکل اپنے ساتھی کو اس کیفیت سے آگاہ کیا.وہ مجھے سہارا دیتے باہر نکلااورسامنے بن داؤد مارکیٹ کی جانب بھاگنےلگا.میں بھاگنے کی پوزیشن میں ہر گز نہیں تھا.عطااللہ نے کچھ کہا اور مجھے چھوڑ کر مارکیٹ میں گھس گیا.مجھے اتنی بات سمجھ آئی کہ وہ میرے لیے کچھ لانے گیا ہے.میں قدم قدم چلتا صحن حرم میں نصب آب زم زم کے کولر تک  پہنچ گیا کانپتے ہاتھوں یکے بعد دیگرے کئی گلاس پی ڈالے.بدن کچھ سکت محسوس ہوئی تو میں بن داؤد کے اس گیٹ کی طرف بڑھا جدھر عطا گیا تھا.سامنے والی گلی انسانوں کے جم غفیر سے اٹی پڑی تھی.کھوئے سے کھوا چھل رہا تھا.میں پاؤں گھسیٹتا چل رہا تھا.اچانک میرا پاؤں کسی چیز سے الجھ کر رہ گیا.اس ہجوم میں جھک کر دیکھنے کا مطلب یہی تھا کہ میں کچلا جاؤں.ساتھ چلتے ایک سوڈانی بھائی کے کندھے پر ہاتھ رکھ اسے اپنے پاؤں کی جانب متوجہ کیا,اس نے مجھے گھور کر دیکھا اور میرے پاؤں میں الجھی چیز تیزی سے لپک کر کھینچی اور میرے ہاتھ پر رکھ کر یہ جا وہ جا---
ایک چھوٹا سا تھیلا میرے ہاتھوں میں تھا.مجھے اس لمحے ایک ہی احساس کھا رہا تھا کہ مبادا شوگر لیول کم ہونے سے کہیں گر نہ جاؤں...گر گیا تو پھر اٹھنا ممکن نہیں ہوگا.....میں نے تھیلا گلے میں ڈالا اور گیٹ کے ساتھ الکیٹرانکس کی ایک دکان کے باہر پڑی کرسی پر بیٹھ گیا.اتنے میں عطا جوس کا گلاس لے کر پہنچ چکا تھا.جوس پی کرہوش بحال ہونے لگے.عطا کا ہاتھ پکڑ کر مارکیٹ کی دوسری منزل پر واقع ہوٹل (مطعم التبوک)کی طرف چل پڑے.وہ تھیلا میرے گلے میں لٹک رہا تھا.اچانک عطا کی نطر پڑی تو اس نے سوالیہ انداز میں مجھے دیکھا.میرے پاس کوئی جواب نہیں تھا.مطعم پہنچ کر عطا کھانا لینے قطار میں لگ گیا.میں نے تھیلا میز پر رکھا اور اس ٹٹولنے لگا.حیرت سے میری آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں.دوعدد ترک پاسپورٹوں کے علاوہ تیرہ ہزار امریکی ڈالرز,پچاس ہزار ترک لیرہ اور دس ہزار کے قریب سعودی ریال سونے کے چھ کڑے منہ چڑا رہے تھے.یہ بات سمجھنا مشکل نہیں تھی کہ یہ ساری دولت کسی ترک جوڑے کی ہے جو ہجوم میں کھو بیٹھے تھے. عطا کھانا لے کر آیا تو میں تھیلا بند کر کے کھانا کھانے لگا لیکن میرے خیال کی پرواز کہیں اور تھی...."واہ میرے اللہ اتنی دولت ایک ساتھ دے دی"میں نے سوچا معاشی تنگ دستی نے گزشتہ کئی برسوں سے گھیر رکھا تھا.کوئی سبب پیدا نہیں ہو رہا تھا.... اللہ نے حجاز میں بلا کر "نواز" دیا.کیا کیا خیالات دل میں ابھرنے لگے تھے.کھانے کے ہر لقمے کے ساتھ توانائی اور بن محنت ہاتھ آئی دولت کی مسرت ..."اڈی اڈی جانواں ہوا دے سنگ "والی کیفیت طاری تھی.میرا ساتھی اس ساری کیفیت بے نیاز لقمے ٹھونس رہا تھا.ابھی کل ہی تو ہم دونوں مالی تنگ دستی کی باتیں کر رہے تھے.دور دور تک کوئی سبب نظر نہیں آرہا تھا.عطا کا خیال تھا پاکستان سے نکلیں.... یورپ,امریکا.خلیجی ریاستوں میں کوئی کام مل سکتا ہے....میں نے یہ کہہ کر بات ختم کر دی تھی کہ پاکستان میری پہلی اور آخری محبت ہے.اسلام کے نام پر بننے والی مملکت کو کیسے چھوڑ سکتا ہوں......... یہ سوچتے ہی معاً میرے ذہن میں ایک شعلہ سا بھڑکا....مجھے اندر سے کسی نے جھنجھوڑا...."تم پاکستانی ہو,یہ دولت کا تھیلا تمہارا کیسے ہو سکتا ہے.....یہ تو کسی ایسی ترک فیملی کا ہے جو نہ جانے اس وقت کس دکھ کی کیفیت میں ہوگی"...میرے اندر سے سوالات کی کونپلیں پھوٹ رہی تھیں.....ضمیر کچوکے لگانے لگا تھا.میں نے کھانے کے دوران ہی فیصلہ کر لیا...ہاتھ دھو کر میں نے تھیلا عطا کے سامنے رکھ دیا.....وہ حیرت سے مجھے دیکھ رہا تھا.....رقم دیکھ اس کی آنکھوں میں ایک چمک سی لہرائی اور پھر غائب ہو گئی,جیسے کہہ رہا ہو نہ بھائی یہ میری نہیں ,تمہیں ملی ہے تو تم رکھو,
نہیں عطا,یہ نہ میری ہے نہ تیری..... اٹھو میرے ساتھ چلو ہم اس کے مالک تلاش کریں گے....بن داؤد کی سیڑھیاں اترتے ہوئے شیطان پھر لوٹ آیا اور ذھن میں خیالات ابھرنے لگے.,رقم مل گئی ہے تو رکھ لو,یہ تمہاری دعا قبول ہوئی ہے,اس کا اصل وارث ملنے سے رہا..,وغیرہ وغیرہ
ادھر ہم مارکیٹ سے باہر نکلے گرم ہوا کے جھونکے چل رہے تھے سامنے گنبد خضری جگمگا رہا تھا میں نے ندامت سے سر جھکا لیا ..اب ہم جنت بقیع کے ساتھ لقطہ( گمشدہ شدہ چیزوں کا مرکز) جارہے تھے.عطا مجھے با بار دیکھ رہا تھا جیسے کوئی ان ہونی ہونے جارہی ہو.میں نے تھیلا کوئنٹر پر کھڑے صاحب کے سامنے رکھا اور اسے اشاروں سے سمجھایا,یہ میرا نہیں مجھے گیٹ نمبر دو کے سامنے سے ملا ہے
.....
اس نے تھیلاکھولا رقم گنی,باقی اشیا کی لسٹ بنائی.ساتھ کھڑے ایک پاکستانی مترجم کو کچھ کہااور تھیلا اٹھا کر اندر چلا گیا
...
اب مترجم کی باری تھی....."یہ نئی بات نہیں روز ایسے کیسز ہوتے ہیں....آپ یہ رسید لیں دستخط کریں,اپنا فون نمبر اور رہائش کا پتہ لکھیں,جب بھی اس تھیلے کے مالک آئے آپ کو بلا لیا جائے گا اور آپ کے سامنے ان کے حوالے کیا جائے گا"
لیکن ہماری کیا ضرورت,میں نے اعتراض کیا..."ضرورت ہے,اگر اس میں سے کچھ کم زیادہ ہوا تو
..."
ایک جھرجھری ریڑھ کی ہڈی میں اٹھی..لو جی اگر لینے کے دینے پڑ گے تو...یہ سوچ پریشان ہوگیا....ادھر عصر کی اذان حرم کے میناروں سے بلند ہوئی اور ہم وضو کے لیے چل دیے لیکن بے چینی سی بے چینی تھی.
وہ رات اسی فکر میں گزر گئی.باربار خیال آرہا تھا کہ اگر اس تھیلے کے مالک نے کہہ دیا کہ فلاں فلاں چیز کم ہے تو میں کہاں سے پوری کروں گا,پاکستانیوں کے بارے میں وہ کیا سوچے گا...اگلے روز عصر کی نماز کے بعد بلاوہ آ ہی گیا.ہم دونوں سہمے سہمے قطار میں کھڑے تھے ہمارے مقابل ایک عمررسیدہ ترک بابا اپنی بڈھی کا ہاتھ تھامے کپکپا رہے تھے,جیسے بخار کی کیفیت سے گزر رہے ہوں.جلد ہی میں کاؤنٹر تک پہنچ گیا.وہی پاکستانی مترجم موجود تھا اس نے مسکرا کر مجھے دیکھا اور تھیلا نکال کر......ترک بابے کے سامنے پھیلا دیا.بابا بے چینی سے اپنی اشیا گننے لگا....چند لمحوں بعد اس نے اطمینان سے تھیلا بند کیا اور رسید پر دستخط کرکے میری طرف پلٹا....اب ہم قطار سے باہر آچکے تھے,اس نے دونوں بازو کھول کرمجھے اپنے سینے سے لگا لیا.وہ واقعی بخار سے تپ رہا تھا.اچانک اس کی آنکھوں سے آنسو نکلے اور چہرے پر پھیلنے لگے.اس کے ہاتھ کی گرفت میرے ہاتھ پر بڑھنے لگی
......
دفتر سے باہر آکر صحن حرم میں ایک جگہ بیٹھ گیا اور ہمیں بھی بیٹھنے کا اشارہ کیا.
ہم بھی بیٹھ گئے توانگریزی میں بولا
"کیا تم پاکستانی ہو"
اثبات میں جواب سن کر ایک لمحے کے اچھلا اور میرا ہاتھ پکڑ کر چومتے ہوئے بولا"مجھے یقین تھا,اگر میرا سامان کسی پاکستانی کو ملا تو واپس مجھے مل جائے گا"
"کیوں,ایسا کیوں سوچا آپ نے,یہاں شہر نبی صعلم میں کوئی بھی غلط نہیں کر سکتا"
"تم درست کہتے ہو لیکن انسان اچھے برے ہر جگہ ہوتے ہیں,پاکستانی کبھی ایسے ہو ہی نہیں سکتے"
اس نے میرا ہاتھ چھوڑا تھیلا کھولا اور سارے ریال نکال کر میرے ہاتھ پر رکھ دیے.
"یہ میری طرف سے ہدیہ ہے"
میں نے ہدیہ قبول کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہا یہ میرا حق نہیں ....یہ آپ کی امانت تھی جو آپ کو مبارک.اس نے قہقہ لگایا اور بولا مجھے یقین تھا تم نہیں لوگے.
پھر وہ گویا ہوا...پاکستان کے ترکوں پر بہت احسنات ہیں
...
ہم تک اسلام کی دعوت آپ لوگوں کے ذریعے پہنچی,1923میں جب خلافت عثمانیہ کے خلاف سازش ہوئی آپ نے جان ومال کے ساتھ ہمارا ساتھ دیا
....
ہم دین کے حقیقی فہم سے ناآشناتھے,میں خود ایک جاہل مسلمان تھا مجھے دین کا شعور لاہور سے عطا ہوا"
یہ کہہ کر وہ رو دیا
تھوڑی دیر بعد بولا
"لاہور میں میرے دومرشد مدفون ہیں,علامہ محمد اقبال اور سید ی
.......
یہ دونوں میرے محسن ہیں..میں نے انقلابی اسلام کا سبق ان سے پڑھا ہے.."یہ کہہ کر اس نے اپنی بیگم کی طرف دیکھا اور اس کے سرکتے ہوئے سکارف پر ہاتھ پھیرتے ہوئے بولا"میری بیگم کو یورپ میں رہتے ہوئے حیا کی یہ چادر نے عطا کی
....
 میری یہ بیگم جرمن نومسلم ہے
....
اس کو اندھیرے سے اجالے کی طرف 
  لایا."
اس نے استفامیہ نظروں سے مجھے دیکھا جیسے پوچھ رہا ہو"ہے نا پاکستان ہمارا محسن"
الفاظ میرے گلے میں پھنس گئے تھے...اسے میں کیسے بتاتا پاکستان میرا بھی محسن ہے,ایک لٹے پٹے کشمیری کا محسن جس کی ماں ننگے سر اورننگے پاؤں ہجرت کر کے آئی تھی اور پاکستان نے اس کے سر پر شفقت کی ردا رکھ دی.
پاکستان اس کم ظرف کا بھی محسن ہے جو گمراہی کے گڑھے میں گر رہا تھا  اسی سید نے ہاتھ تھام کر دین کی راہ پر لگا دیا,جس نے تمہیں باریاب کیا
جذبات کی شدت سے میری آنکھوں سے برسات برسنے لگی
.....
بوڑھا ترک لپکا اور مجھے گلے لگا کر بولا
"حوصلہ رکھو یہ دنیا عارضی جگہ,ہم آخرت میں ایک ساتھ ہوں گے,ایرانی ,ترکی ہندوستانی,عربی,سب خاک میں مل جاٰئیں گے
...
اخلاق و کردار باقی رہیں گے
.....
.
پاکستانی اور پاکستان ترکوں کے دل میں زندہ ہیں اور زندہ رہیں گے."
وہ بولتا جا رہا تھا اور میں سوچ رہا تھا,,خدانخواستہ اس بوڑھے کی امیدیں پوری نہ ہوئیں تو کیا ہوگا,اگر یہ تھیلا اسے واپس نہ ملتا تو اس پر کیا گزرتی,اگر اسے رقم کم ملتی تو کیا سوچتا,
ایک وقفے کے بعد وہ بولا"جب کبھی لاہور جاؤ تو مرشد کی قبر پر کھڑے ہو کر کہنا"تم نے ایک مردہ ترک کو انقلاب کی راہ دکھائی,تم نے ایک جرمن عورت کو اسلام کی ابدی حقیقتوں سے آشنا کر دیا ,اللہ تیری قبر نور سے بھر دے"
حرم نبوی کے میناروں سے مغرب کی اذان بلند ہو رہی اور ہم جدا ہو رہے تھے
.....
لیکن میرا دل بابے کے سینے میں اور اس کا دل میرے سینے میں دھڑکتا محسوس ہو رہا تھا
....
مجھے یوں لگا جیسے قارون کا خزانہ میرے ہاتھ لگ گیا ہے
...
ہم دونوں عمر کے تفاوت کے باوجودجیسے ہم عمر اور صدیوں سے ہم نوالہ و ہم پیالہ تھے.اس حیات چندہ روزہ میں ایسی دولت کہاں نصیب ہوتی ہے
....
یہ تو اللہ جی کا خاص کرم ہوتا ہے.
( فانی زندگی کا لافانی تجربہ-)
.

🎇🌹🌴🎆🎄🎍🌻🎍🎄🎆🌴🥀🌹🎇🌹🥀🌴🎆🎄🎍🌻🎍🎄🎆🌴🌹🎇

Ramzanul Mubarak k Rozon k Douran Hamary Jisam k Radeyamal

🎇🌹🌴🎆🎄🎍🌻🎍🎄🎆🌴🥀🌹🎇🌹🥀🌴🎆🎄🎍🌻🎍🎄🎆🌴🌹🎇

روزےکےدوران ہماراجسمانی ردعمل کیاہوتاہےاس بارےمیں کچھ دلچسپ معلومات


(پہلے دو روزے)
پہلےہی دن بلڈشگرلیول گرتاہےیعنی خون سےچینی کے مضراثرات کادرجہ کم ہوجاتاہے، دھڑکن سست ہوجاتی ہے اور بلڈپریشرکم ہوجاتا۔اعصاب جمع شدہ گلائ کوجن کو آزادکر دیتے ہیں جس کی وجہ سے جسمانی کمزوری کااحساس اجاگر ہوجاتا ہے۔ زہریلےمادوں کی صفائی کے پہلےمرحلہ میں نتیجتا سردرد۔ چکرآنا۔ منہ کابدبودار ہونا اورزبان پرموادکےجمع ہوتا ہے

(تیسرےسے7ویں روزے تک)
جسم کی چربی ٹوٹ پھوٹ کا شکارہوتی ہےاورپہلےمرحلہ میں گلوکوزمیں تبدیل ہوجاتی ہے۔ بعض لوگوں کی جلدملائم اور چکنی ہوجاتی ہے۔جسم بھوک کا عادی ہوناشروع کرتاہےاور اس طرح سال بھر مصرف رہنےوالا نظام ہاضمہ رخصت مناتاہے جسکی اسےاشد ضرورت تھی۔خون کےسفید جرسومےاورقوت مدافعت میں اضافہ شروع ہوجاتا ہے۔ہوسکتا ہے روزیدارکے پھیپھڑوں میں معمولی تکلیف ہواسلئےکہ زہریلے مادوں کی صفائ کاعمل شروع ہوچکاہے۔انتڑیوں اورکولون کی مرمت کاکام شروع ہوجاتاہے۔ انتڑیوں کی دیواروں پرجمع مواد ڈھیلا ہوناشروع ہوجاتاہے۔

(8ویں سے15ویں روزے تک)
.آپ پہلےسےتوانامحسوس کرتے ہیں۔ دماغی طورپرچست اور ہلکا محسوس کرتےہیں۔ہوسکتا ہےپرانی چوٹ اورزخم محسوس ہوناشروع ہوں۔ اسلئےکہ اب آپکا جسم اپنےدفاع کیلئےپہلےسے زیادہ فعال اورمضبوط ہوچکا ہے۔ جسم اپنےمردہ یاکینسرشدہ سیل کوکھاناشروع کردیتاہےجسے عمومی حالات میں کیموتھراپی کےساتھ مارنےکی کوشش کیجاتی ہے۔ اسی وجہ سےخلیات سےپرانی تکالیف اور دردکااحساس نسبتا بڑھ جاتاہے۔اعصاب اور ٹانگوں میں تناؤاس عمل کاقدرتی نتیجہ ہوتاہے۔ یہ قوت مدافعت کےجاری عمل کی نشانی ہے۔روزانہ نمک کےغرارے اعصابی تناؤکابہترین علاج ہے ۔

(16ویں سے 30ویں روزے تک)
جسم پوری طرح بھوک پیاس برداشت کاعادی ہوچکا ہے۔ آپ خودکوچست۔چاک وچوبند محسوس کرتےہیں۔ان دنوں آپ کی زبان بالکل صاف اور سرخی مائل ہوجاتی ہے۔سانس میں بھی تازگی آجاتی ہے۔ جسم کے سارے زہریلےمادوں کاخاتمہ ہو چکاہے۔نظام ہاضمہ کی مرمت ہوچکی ہے،جسم سےفالتوچربی اورفاسد مادوں کااخراج ہوچکاہے۔بدن اپنی پوری طاقت کےساتھ اپنے فرائض اداکرناشروع کردیتاہے ۔ 20ویں روزےکےبعد دماغ اور یادداشت تیزہوجاتےہیں۔ توجہ اورسوچ کومرکوزکرنےکی صلاحیت بڑھ جاتی ہے،بلاشبہ بدن اور روح تیسرے عشرے کی برکات کوبھرپورانداز سےاداکرنے کےقابل ہوجاتاہے۔یہ توہوادنیاوی فائدہ،جوبیشک اللہ نے ہماری ہی بھلائ کیلئےہم پرفرض کیا۔ مگر دیکھئےرحمت الہی کاانداز کریمانہ کہ اسکے احکام ماننےسے دنیاکےساتھ ساتھ ہماری آخرت بھی سنوارنےکابہترین بندوبست کردیا ۔

سبحان اللہ وبحمدہ سبحان اللہ العظیم

🎇🌹🌴🎆🎄🎍🌻🎍🎄🎆🌴🥀🌹🎇🌹🥀🌴🎆🎄🎍🌻🎍🎄🎆🌴🌹🎇

Waqt ka Wali...

🎇🌹🌴🎆🎄🎍🌻🎍🎄🎆🌴🥀🌹🎇🌹🥀🌴🎆🎄🎍🌻🎍🎄🎆🌴🌹🎇

وقت کا ولی ......


سید سے ایک دف کسی نے پوچھا کہ آپ نے کبھی کسی ولی اللہ کو دیکھا ہے ؟ سید نے جواب دیا ہاں ابھی دو دن پہلے ہی لاہور اسٹیشن پر دیکھا ہے ۔ ہماری گاڑی جیسے ہی رکی تو قلیوں نے دھاوا بول دیا اور ہر کسی کا سامان اٹھانے اور اٹھا اٹھا کر بھاگنے لگے  لیکن میں نے ایک قلی کو دیکھا کہ وہ اطمینان سے نماز میں مشغول ہے ۔ جب اس نے سلام پھیرا تو میں نے اسے سامان اٹھانے کو کہا اس نے سامان اٹھایا  اور میری مطلوبہ جگہ پر پہنچا دیا، میں نے اسے ایک روپیہ کرایہ ادا کردیا ، اس نے چار آنے اپنے پاس رکھے اور باقی مجھے واپس کردئیے ۔ میں نے اس سے عرض کی کہ ایک روپیہ پورا رکھ لو  لیکن اس نے مسکراتے ہوئے جواب دیا “نہیں صاحب میری مزدوری چار  آنے ہی بنتی ہے” ۔

آپ یقین کریں ہم سب ولی اللہ بننے اور اللہ کے ولیوں کو ڈھونڈنے میں دربدر ذلیل و خوار ہوتے ہیں ۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ہمیں مشکل ترین ریاضتوں ، مشقتوں اور مراقبوں سے گذرنا پڑےگا ۔ ساری ساری رات نوافل میں گذارنی پڑےگی یا شاید گلے میں تسبیح ڈال کر میلے کچیلے کپڑے پہن کر اللہ ہو کی صدائیں لگانا پڑے گی تب ہم ولی اللہ کے درجے پر پہنچ جائینگے ۔ آپ کمال ملاحظہ کریں ہماری آدھی سے زیادہ قوم بھی اس کو ہی” پہنچا “ہوا سمجھتی ہے جو ابنارمل حرکتیں کرتا نظر  آئیگا ۔ جو رومال میں سے کبوتر نکال دے یا عاشق کو آپ کے قدموں میں ڈال دے ۔

اللہ کا دوست بننے کے لیے تو اپنی انا کو مارنا پڑتا ہے ۔ قربانی ، ایثار اور انفاق کو اپنی ذات کا حصہ بنانا پڑتا ہے ۔ اشفاق صاحب کہتے ہیں کہ ایک دفعہ میں نے اپنے ابا جی سے پوچھا کہ عشق مجازی اور عشق حقیقی میں کیا فرق ہے ؟ انھوں نے کچھ دیر سوچا اور کہنے لگے “بیٹا ! کسی ایک کے آگے اپنی انا کو مارنا عشق مجازی ہے اور ساری دنیا کے سامنے اپنی انا کو مارلینا عشق حقیقی ہے” ۔

جنید بغدادی اپنے وقت کے نامی گرامی شاہی پہلوان تھے ۔ انکے مقابلے میں ایک دفعہ انتہائی کمزور ، نحیف اور لاغر شخص آگیا ۔ میدان تماشائیوں سے بھرا ہوا تھا ۔ بادشاہ اپنے پورے درباریوں کے ساتھ جنید بغدادی کا مقابلہ دیکھنے  آچکا تھا ۔مقابلہ شروع ہونے سے پہلے وہ کمزور آدمی جنید بغدادی کے قریب آیا اور کہا دیکھو جنید ! کچھ دنوں بعد میری بیٹی کی شادی ہے میں بے انتہائی غریب اور مجبور ہوں ۔ اگر تم ہار گئے تو بادشاہ مجھے انعام و اکرام سے نوازے گا ۔ لیکن اگر میں ہار گیا تو اپنی بیٹی کی شادی کا بندو بست کرنا میرے لیے مشکل ہوجائیگا ۔مقابلہ ہوا اور جنید بغدادی ہار گئے ۔ بادشاہ کو اپنی آنکھوں پر یقین نہ آیا اس نے دوبارہ اور پھر سہہ بارہ مقابلہ کروایا اور تینوں دفعہ ہار جنید بغدادی کے حصے میں آئی ۔بادشاہ نے سخت غصے میں حکم دیا جنید کو میدان سے باہر جانے والے دروازے پر بٹھا دیا گیا اور تمام تماشائیوں کو حکم دیا گیا کہ جو جائیگا جنید پر تھوکتا ہوا جائیگا ۔ جنید بغدادی کی انا خاک میں مل گئی لیکن ان  کی ولایت کا فیصلہ قیامت تک کے لیے آسمانوں پر سنا دیا گیا ۔

ولی تو وہ ہوتا ہے جو لوگوں کی زندگیوں میں آسانیاں پیدا کردے۔جو کسی کو جینے کی امنگ دے دے ۔ چہرے پر خوشیاں بکھیر دے ۔ جب کبھی بحث کا موقع آئے تو اپنی دلیل  اور حجت روک کر سامنے والے کے دل کو ٹوٹنے سے بچالے  اس سے بڑا ابدال بھلا کون ہوگا ؟

رسول خداﷺ نے حضرت معاذ بن جبلؓ سے فرمایا :

”معاذؓ !تمھیں وہ عمل نہ بتاوں جو بغیر حساب کتاب کے تمھیں جنت میں داخل کروادے ؟” معاذؓ نے عرض کی ضرور یا رسول اللہﷺ ۔ آپ نے فرمایا :”معاذ ! مشقت کا کام ہے کروگے ؟” ضرور کروں گا یارسول اللہﷺ ،معاذ نے جواب دیا ۔ آپﷺ نے پھر فرمایا :”معاذ مسلسل کرنے کا کام ہے کروگے ؟” معاذؓ نے جواب دیا کیوں نہیں یا رسول اللہﷺ ۔ آپ نے فرمایا:” اے معاذ ! اپنے دل کو ہر ایک کے لیے شیشے کی طرح صاف اور شفاف رکھنا بغیر حساب کتاب کے جنت میں داخل ہوجاوگے” ۔

معروف کرخیؒ نے فرمایا جس کا ظاہر اس کے باطن سے اچھا ہے وہ مکار ہے اور جس کا باطن اس کے ظاہر سے اچھا ہے وہ ولی ہے ۔ ولایت شخصیت نہیں کردار میں نظر آتی ہے ۔ابراہیم بن ادھمؒ کی خدمت میں ایک شخص حاضر ہوا اور چند دن رہنے کی اجازت مانگی آپ نے دے دی ۔ وہ کچھ دن ساتھ رہا اور انتہائی مایوس انداز میں واپس جانے لگا ۔ ابراھیم بن ادھمؒ نے پوچھا کیا ہوا برخوردار ! کیوں آئے تھے اور واپس کیوں جارہے ہو ؟ اس نے کہا حضرت آپ کا بڑا چرچا سنا تھا ۔ اس لیے آیا تھا کہ دیکھوں کہ آپ کے پاس کونسی کشف و کرامات ہیں ۔ اتنا بول کر وہ نوجوان خاموش ہوگیا ۔ ابراھیم بن ادھمؒ نے پوچھا پھر کیا دیکھا ؟ کہنے لگا میں تو سخت مایوس ہوگیا ۔ میں نے تو کوئی کشف اور کرامت وقوع پذیر ہوتے نہیں دیکھی ۔ ابراھیم بن ادھمؒ نے پوچھا نوجوان ! یہ بتاو  اس دوران تم نے میرا کوئی عمل خلاف شریعت دیکھا ؟ یا کوئی کام اللہ اور اس کے رسول کے خلاف دیکھا ہو ؟ اس نے فورا ًجواب دیا نہیں ایسا تو  واقعی کچھ نہیں دیکھا ۔ابراھیم بن ادھمؒ مسکرائے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا اور بولے بیٹے ! میرے پاس اس سے بڑا کشف اور اس  سے بڑی کرامت کوئی اور نہیں ہے ۔

جو شخص فرائض کی پابندی کرتا ہو ۔
کبائر سے اجتناب کرتا ہو ۔
 لوگوں کی زندگیوں میں آسانیاں پیدا کرتا ہو ۔
آپ مان لیں کہ اس سے بڑا ولی کوئی نہیں ہوسکتا ہے ۔اللہ کے ولی کی سب سے بڑی نشانی یہ ہے کہ وہ صاحب حال ہوتا ہے ۔نہ ماضی پر افسوس کرتا ہے اور نہ مستقبل سے خوفزدہ ہوتا ہے ۔ اپنے حال پر خوش اور شکر گذار رہتا ہے ۔جو اپنے سارے غموں کو ایک غم یعنی آخرت کا غم بنا کر دنیا کے غموں سے آزاد ہوجائے وہی وقت کا ولی ہے ۔

ایک صحابیؓ نے پوچھا یارسول اللہﷺ ایمان کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا صبر کرنا اور معاف کرنا ۔آپ یقین کریں تہجد پڑھنا ، روزے رکھنا آسان ہے لیکن کسی کو معاف کرنا مشکل ہے ۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا اسلام کا حسن یہ ہے کہ بھوکوں کو کھانا کھلائواور ہمیشہ اچھی بات زبان سے نکالو ۔جو صبر کرنا سیکھ لے ، بھوکوں کو کھانا کھلائے ، ہمیشہ اچھی بات اپنی زبان سے نکالے اور لوگوں کے لیے اپنے دل کو صاف کرلے اس سے بڑا ولی بھلا اور کون ہوسکتا ہے ؟

یاد رکھیں جو لوگوں سے شکوہ نہیں کرتا جس کی زندگی میں اطمینان ہے وہی ولی ہے ۔ جس کے دل کی دنیا میں آج جنت ہے وہی وہاں جنتی ہے اور جس کا دل ہر وقت شکوے ،شکایتوں ، حسد ، کینہ ، بغض ، لالچ اور ناشکری کی آگ سے سلگتا رہتا ہے وہاں بھی اس کا ٹھکانہ یہی ہے ۔

فرائض کی پابندی کیجیے ،
 کبائر سے اجتناب کیجیے ،
 حال پر خوش رہیے ،
 لوگوں کی زندگیوں میں آسانیا ں پیدا کیجیے ،
اپنی انا اور میں کو ختم کر دیں دوسروں کے لئے دل میں وسعت پیدا کریں اور عزت دیں 
اور وقت کے ولی بن جائیے ۔

 "

🎇🌹🌴🎆🎄🎍🌻🎍🎄🎆🌴🥀🌹🎇🌹🥀🌴🎆🎄🎍🌻🎍🎄🎆🌴🌹🎇

Maishat ki Behtri k lie aik Behtreen Export

🎇🌹🥀🤣😅🌴🎆😂🎆🌴😅🤣🥀🌹🎇🌹🥀🤣😅🌴🎆😂🎆🌴😅🤣🥀🌹🎇

Maishat ki Behtri k lie aik Behtreen Export


پڑوسی ملک بھارت میں بی جے پی کی خاتون راہنما سادھوی پرگیا نے دعوی کیا ہے کہ گائے کا پیشاب پینے اور گوبر کھانے سے ان کا بریسٹ کینسر ٹھیک ہوگیا ہے
.

جب کہ گجرات سے تعلق رکھنے والے بی جے پی کے ممبر پارلیمنٹ شنکر بھائی این وگاڈ نے لوک سبھا میں بحث کے دوران کہا کہ 76 برس کا ہوں اور گذشتہ دس سالوں سے گائے کا پیشاب پیتا ہوں،میری صحت کا راز گاؤ موتر میں پہناں ہے،یہ کینسر کے لئے بہترین علاج ہے
.

ادھر بھارتی ریاست راجھستان میں دودھ 20 تا 25 روپے لیٹر فروخت ہو رہا ہے اور گائے کا پیشاب 30 سے 50 روپے 
فی لیٹر فروخت ہو رہا ہے،شام کے وقت ڈھابوں میں گائے 
کا پیشاب پینے والوں کا رش لگا ہوتا ہے
.

ہمارے پاکستان میں ایک محتاط اندازے کے مطابق ساڑھے چھ کروڑ گائے پائی جاتی ہیں اور روزانہ ٹنوں کے حساب سے ان کا پیشاب ضائع جاتا ہے
.

جنگوں میں آخر کیا رکھا ہے اگر ہم بھارت کو صرف گائے کا پیشاب ہی فروخت کرنا شروع کریں تو ہماری معیشت بہتر 
ہوسکتی ہے،ہم روزانہ اربوں روپے کما سکتے ہیں
.

اس کے لئے کوریڈور طرز پر پاکستانی سرحد سے بھارتی سرحد تک "موتر سپلائی نہر " پر بھی غور کیا جاسکتا ہے
.
😂😂

🎇🌹🥀🤣😅🌴🎆😂🎆🌴😅🤣🥀🌹🎇🎇🌹🥀🤣😅🌴🎆😎🎆🌴😅🤣🥀🌹🎇

Nekiyon ka Mousam Aaya, Nekiyan kamany k Chand andaz aap bhi azmain

🎇🌹🌴🎆🎄🎍🌻🎍🎄🎆🌴🥀🌹🎇🌹🥀🌴🎆🎄🎍🌻🎍🎄🎆🌴🌹🎇

رمضان المبارک- نیکیوں کا موسم بہار




"آمنہ بیٹی عائشہ کو مجھے دے دو اس نے بخار کی وجہ سے ساری رات تمہیں جگایا ہے, تم کچھ دیر سو جاؤ پھر میں عصر کے وقت تمہیں جگادوں گی۔"
 کلثوم خاتون اپنی دو سالہ پوتی کو گود میں لے کر اپنے کمرے میں چلی گئیں اور آمنہ کے دل سے اپنی ماں نما ساس کے لیۓ  ڈھیروں دعائیں نکلیں.
________________________

چچا جی کہاں جا رہے ہیں؟ کاشف نے گاڑی روک کر ایک معمر شخص سے پوچھا.
"بیٹا ذرا جامع مسجد تک جارہا ہوں."
 وہ بولے

"گاڑی میں آجائیں چچا جی میں بھی مسجد ہی جارہا ہوں." کاشف نے کہا.
معمر شخص روزے میں تیز دھوپ سے جب اے سی کی ٹھنڈک میں آکر بیٹھے تو انہوں نے کافی سکون محسوس کیا اور زیر لب کاشف جیسے نیک لڑکے کو دعائیں دینے لگے.
__________________________

ثانیہ ڈھیروں کپڑے تار پہ پھیلا کر فارغ ہوئی اور کچن کا رخ کیا, ہفتے بھر کے کپڑے دھو کر طبعیت نڈھال ہوگئی تھی.

"ثانیہ کچھ دیر آرام کرلو, افطاری میں پھل وغیرہ کاٹ لینا اور کچھ چیزیں میں باہر سے لے آؤں گا. تم آج افطاری مت بنانا"
 ثانیہ کے شوہر اسجد بولے.

ثانیہ نے شکرگزاری و محبت سے انہیں دیکھا, اس کا تھکا ہارا پورا وجود اسجد کو دعائیں دینے لگا.

______________________________

رشیدہ ایک نیک اور سفید پوش گھرانے سے تعلق رکھنے والی عورت ہے. مجبوریوں کے باعث چند گھروں میں کام کرتی ہے. وہ برتن دھو چکی تو واشنگ مشین میں پانی بھرنے لگی اتنے میں حفصہ باجی آگئیں.

 "رشیدہ کپڑے کل دھو لینا, تم بھی روزے سے ہوتی ہو ناں, ماہ رمضان میں روزانہ بس ایک کام کرنا, کل میں برتن خود دھولوں گی اور تم کپڑے دھولینا۔"
حفصہ باجی بولیں. 

"اور ہاں پیسے سارے کاموں کے ہی دوں گی." 
حفصہ باجی نے جاتے ہوۓ مسکرا کر کہا اور رشیدہ نے حیرانی سے اس فرشتہ صفت عورت کو دیکھا اور رب سے انکی خوشیاں مانگنے لگی.
____________________________

امام صاحب کی اہلیہ حبیبہ خاتون گھر کے کام نمٹا کر تراویح پڑھنے کے لیے کھڑی ہو رہی تھیں کہ ان کا بیٹا باہر سے ایک شاپر لے کر اندر آیا

 "امی جان ایک آنٹی یہ دے کر گئی ہیں۔ آپ کا نام لے رہیں تھیں کہ میں آپ کو دے دوں" 
ان کا بیٹا عبدالمجیب بولا.

 انہوں نے شاپر کھول کے دیکھا جس میں چند قیمتی کپڑے, عید کے لیے کچھ کھانے پینے کا سامان اور بچوں کے لیے چند چیزیں تھیں. ساتھ ایک لفافہ بھی تھا جس سے اچھی خاصی رقم اور ایک رقعہ نکلا.
 "السلام و علیکم باجی! یہ ہدیا قبول کر کے ہم پر احسان کریں۔ تمام اشیاء حلال کمائی کی ہیں اور یہ زکوۃ کے طور پہ نہیں بلکہ تحفہ ہے۔ خالص دل کی چاہت کے ساتھ"

حبیبہ خاتون دم بخود اس بےنام تحریر کو پڑھے گئیں اور پھر آسمان کی طرف دیکھ کر اس گمنام بندی کو خاموشی کی زباں سے ڈھیروں دعائیں دیں.

یہ چند مثالیں تھیں, رمضان المبارک نیکیاں کمانے کا موسم ہے نیکیوں کا اجر بڑھادیا جاتا ہے اور دل سے نکلی ہوئی یہ دعائیں کتنے ہی بگڑے کام بنادیتی ہیں. اللہ پاک ہمیں اس مبارک ماہ میں عبادات کے ساتھ ساتھ خوب خوب اجر کمانے اور لوگوں کے لیے آسانیاں پیدا کرنے والا بنائیں ۔ آمین

🎇🌹🌴🎆🎄🎍🌻🎍🎄🎆🌴🥀🌹🎇🌹🥀🌴🎆🎄🎍🌻🎍🎄🎆🌴🌹🎇