🎆🎇🎆🎇🎆🎇🎆🎇🎆🎇🎆🎇🎆🎇🎆🎇🎆🎇🎆🎇🎆🎇🎆🎇🎆🎇🎆
....حضرت شیخ اکبر کا ارشاد ہے کہ
اعمال اور🔷
نوافل تو لوگ کثرت سے اختیار کر لیتے ہیں ، کیونکہ یہ ایک وجودی شے ہے
-
دوسرے لوگ بھی اس کا مشاہدہ کرتے ہیں -
اس لئے نفس کو اس میں بڑا مزہ ملتا ہے -
اس میں طالب جاہ کے مواقع بھی ملتے ہیں
-
لیکن ایسے عمل جن میں گناہوں سے رک جانا
ہوتا ہے
وہ نفس پر بڑے گراں گزرتے ہیں -
مثلاً...
جھوٹ ترک کرنا یا غیبت سے باز رہنا
-
چونکہ ایسے گناہوں کو ترک کرنے میں شہرت اور ناموری نہیں ہوتی اس لئے ان کی طرف کوئی التفات نہیں کرتا -
احادیث میں اس کا اہتمام زیادہ آیا ہے اور 🔷اسے ورع کہتے ہیں -
No comments:
Post a Comment