Friday, August 14, 2020

Meray Watan ki Pak Qeemti Matti, WTAN KI MAATTI AZEEM HAY TU

🎆🎋🌴🎄🎇🏝️🌹🌻🌹🎇🎄🌴🎋🎆🎋🌴🎄🎇🌹🌻🌹🏝️🎇🎄🌴🎋🎆

Meray Watan ki Pak Qeemti Matti 

WTAN KI MAATTI AZEEM HAY TU


میں نے آج تک کسی تحریر پر یہ نہیں لکھا کہ اس کو ضرور پڑھیں اور شیئر کریں پر آج آپ سب کو حق سے یہ درخواست ہاتھ جوڑ کر کر رہا ہوں کہ یہ تحریر ضرور پڑھیں اور پھر شیئر کریں۔

"وطن کی مٹی عظیم ہے تو"

❤❤

امریکہ میں کلے (clay) ہانڈی ریسٹورنٹ کھولنے کا اشارہ مجھے ایک رات بحالت خواب ملا تھا کہ میرے ریسٹورینٹ میں مٹی کی ہانڈیوں میں کھانا پک بھی رہا ہے اور لوگ مٹّی کے برتنوں میں کھانا کھا بھی رہے ہیں۔

اور پھر اس خواب کو حقیقت کا روپ دینے کے لیے مسلسل ایک سال کی پلاننگ ، کنسلٹنٹس کے ساتھ اس کے بزنس پلانز، ریسٹورنٹ کی اس کے نام کی مطابقت کے ساتھ تزئین، اور پاکستان بنفس نفیس جا کر وہاں 20 دن مسلسل سفر، چھوٹے چھوٹے قصبوں میں دستکاروں کے گھروں میں جا کر ان سے برتنوں اور لکڑی کی مصنوعات کی ڈیزائننگ جیسے مراحل سے گزرنے کے بعد، پاکستان بھر سے ساری مصنوعات کو ایک وئیر ہاؤس میں یکجا کرنا ، ان کی نازکی کے لحاظ سے مخصوص پیکنگ ، پاکستان کسٹم کلیئرنس اور کنٹینر کی روانگی ، نیو یارک امریکن کسٹم سے کنٹینر کی کلیرنس کا مرحلہ ۔۔۔۔۔ پھر کسٹم ایجنٹ کی کال آئی کہ مٹی کے برتنوں اور پاکستانن سے امپورٹ کے سبب امیرکن ایگریکلچر ڈیپارٹمنٹ 
USDA
 سے انسپکشن کروانی ضروری ہے۔ نہیں تو کنٹینر ریلیز نہیں ہو سکتا - پھر کنٹینر نیویارک کے وئیر ہاؤس گیا ، انہوں نے اپنی فیس لے کر کنٹینر کلیئر تو کر دیا لیکن ساتھ ہی

FDA ( Department of Food and Drug  Administration)

کو بھی اطلاع کر دی کہ پاکستان سے مٹّی کے برتنوں سے بھرا ہوا کنٹینر امریکہ میں امپورٹ ہوا ہے اور امپورٹڈ مٹی میں شامل سیسے کی زیادتی اور مضر صحت اجزاء کی افراط کے سبب  امپورٹڈ مٹی کے برتنوں کی  کمرشل استعمال پر مکمل پابندی ہے۔

اور اسی اثناء میں جب کنٹینر بفیلو میں میرے ویئر ہاؤس اتارا جا چکا تھا، مجھے FDA 
والوں سے باقاعدہ نوٹس موصول ہو گیا کہ آپ کنٹینر نیویارک لے کر آئیں اور سارے سامان کو 
FDA
 کی انسپکشن کرائیں۔ میں نے انہیں فون کیا کہ کنٹینر تو اَن لوڈ ہو چکا ہے اور سارا سامان وئیرہاؤس میں پڑا ہے تو وہ اور زیادہ مشکوک ہو گئے ۔ 

خیر معاملہ یہاں طے ہوا کہ ان کی انسپکشن ٹیم ویئرہاؤس آ کر مٹّی کے برتنوں کا لیبارٹری ٹیسٹ کرے گی اور ریجکشن کی صورت میں تمام سامان واپس چکوال 
.............. 

جب میں نے
 FDA
 کی ویب سائٹ چیک کی تو مٹی کے برتنوں کے مینو فیکچر کرنے والے ممالک جن میں میکسیکو ، ترکی ، انڈیا ، چائینہ ، مراکش اور دیگر یورپیئن ممالک شامل ہیں  ، ان ممالک کی مٹّی میں انتہائی مضر صحت دھاتیں شامل ہیں اور امریکہ میں ان کی درآمد اور استعمال ممنوع ہے ۔

یہ پڑھنے کی دیر تھی کہ میرے تمام خواب یکدم چکنا چور۔ ۔ ۔ ۔ 

اب مجھے اپنے آپ پہ افسوس ہو رہا تھا ایک خواب دیکھ کر اتنا بڑا قدم اٹھانے کی کیا ضرورت تھی ؟ اپنی فقیری اورقلندری بھی مشکوک نظر آنے لگی ، پیسوں ، وقت اور محنت کے ضیاع سے زیادہ دکھ اس بات پہ ہو رہا تھا کہ اللہ پاک نے پاکستان کی تشہیر اور اس کا نام روشن کرنے کا مجھے موقع عطا نہیں فرمایا.

خیر قصّہ مختصر ! آج
 FDA
 کی انسپکشن ٹیم مع اپنے ٹیسٹنگ آلات میرے ویئر ہاؤس میں آئے ، ایک ایک برتن کو کھرچ کے اس مٹی کو اپنی موبائیل لیب میں چیک کیا ، میرے اوسان تب بحال ہوئے جب انسپکشن ٹیم کی سربراہ مجھے کہنے لگی کہ پاکستان میں واقعی بہت جدید لیبارٹریز اور مٹّی کےبرتنوں کے Modern مینوفیکچرنگ پلانٹس ھیں جنہوں نے ان برتنوں کی مٹّی کو تمام آلائشوں اور مضر صحت دھاتوں سے پاک کیا ہے۔

ابھی اس کی ای میل آئی ہے کہ مجھے ان مینوفیکچرنگ کمپنیز کی لسٹ فراہم کرو کہ جنہوں نے یہ برتن بنائے ہیں تاکہ میں انہیں اپنے سسٹم ڈال دوں اور انہیں FDA کا کلیئرنس سرٹیفیکیٹ ایشو کر دوں کہ ان کمپنیوں کے تیار کردہ برتن FDA سے انسپیکشن سے مبرّاء ھیں اور آزادانہ طور پر ان کی امریکہ امپورٹ کی اجازت ہے۔

اب میں اسے کیسے جواب دوں کہ میرے سارے وطن کی مٹّی اور اس مٹّی سے جنم لینے والے لوگ ہر قسم  کی کثافت سے پاک ہیں ؟ 
یہ مٹّی بھی اور لوگ بھی اصلی ہیں یا پھر پاکستان کے ان چھوٹے چھوٹے گاؤں میں " دنیا کے جدید ترین پلانٹس " پہ ان برتنوں کی تخلیق کرنے والے ان دستکاروں کے نام ؟  کیسے جواب دوں ؟
۔

🎆🎋🌴🎄🎇🏝️🌹🌻🌹🎇🎄🌴🎋🎆🎋🌴🎄🎇🌹🌻🌹🏝️🎇🎄🌴🎋🎆

Thursday, May 14, 2020

Khamosh Dost BAAP

🎇🥀🌻🎆🎄🌴🌹🏝️🌹🌴🎄🎆🌻🎇🌻🎆🎄🌴🌹🏝️🌹🌴🎄🎆🌻🥀🎇

Khamosh Dost BAAP

💞خاموش دوست💞

 
جوانی میں انسان باپ کو شک کی نگاہ سے دیکھتا رہتا ہے , جیسے باپ کو ہمارے مسائل ,تکلیفوں یا ضرورتوں کا احساس ہی نہیں . یہ نئے دور کے تقاضوں کو نہیں سمجھتا
 .
کبھی  کبھی ہم اپنے باپ کا موازنہ بھی کرنا شروع کر دیتے ہیں , " اتنی محنت ہمارے باپ نے کی ہوتی , بچت کی ہوتی ,کچھ بنایا ہوتا ,تو آج ہم بھی ...فلاں کی طرح عالیشان گھر ,گاڑی میں گھوم رہے ہوتے " 
" کہاں ہو ? کب آو گے ? زیادہ دیر نہ کرنا " جیسے سوالات انتہائی فضول اور فالتو سے لگتے ہیں
 .
" سویٹر تو پہنا ہے کچھ اور بھی پہن لو سردی بہت ہے "  انسان سوچتا ہے کہ اولڈ فیشن کی وجہ سے والد کو باہر کی دنیا کا اندازہ نہیں
 .
اکثر اولادیں اپنے باپ کو ایک ہی معیار پر پرکھتی ہیں  ,گھر ,گاڑی ,پلاٹ , بینک بیلنس ,کاروبار اور اپنی ناکامیوں کو باپ کے کھاتے میں ڈال کر خود سرخرو ہو جاتے ہیں " ہمارے پاس بھی کچھ ہوتا تو اچھے اسکول میں پڑھتے ,کاروبار کرتے "
اس میں شک نہیں ,اولاد کے لئے آئیڈیل بھی انکا باپ ہی ہوتا ہے لیکن کچھ باتیں , جوانی میں سمجھ نہیں آتیں یا ہم سمجھنے کی کوشش نہیں کرتے ,اسلئے کہ ہمارے سامنے , وقت کی ضرورت ہوتی ہے , دنیا سے مقابلے کا بھوت سوار ہوتا ہے , جلد سے جلد سب کچھ پانے کی جستجو میں ہم کچھ کھو بھی رہے ہوتے ہیں , جسکا احساس بہت دیر سے ہوتا ہے .
بہت سی اولادیں , وقتی محرومیوں کا  پہلا  ذمہ دار اپنے باپ کو قرار دے کر ,ہر چیز سے بری الزمہ ہو جاتی ہیں 
.
وقت گزر جاتا ہے ,اچھا بھی برا بھی ,اور اتنی تیزی سے گزرتا ہے کہ انسان پلک  جھپکتے ماضی کی کہانیوں کو اپنے ارد گرد منڈلاتے دیکھنا شروع کر دیتا ہے .     جوانی ,پڑھائی ,نوکری ,شادی ,اولاد اور پھر وہی اسٹیج وہی کردار , جو نبھاتے ہوئے ,ہر لمحہ , اپنے باپ کا  چہرہ آنکھوں کے سامنے آ آ کر , باپ کی  ہر سوچ ,احساس ,فکر ,پریشانی ,شرمندگی اور اذیت کو ہم پر کھول کے رکھ دیتا ہے
 .
باپ کی کبھی کبھی بلا وجہ خاموشی , کبھی پرانے دوستوں میں بے وجہ قہقہے , اچھے کپڑوں کو ناپسند کرکے ,پرانوں کو فخر سے پہننا , کھانوں میں اپنی سادگی پر فخر , کبھی کبھی سر جھکائے اپنے چھوٹے چھوٹے کاموں میں مگن ہونے کی وجہ , 
کبھی بغیر وجہ تھکاوٹ کے بہانے سر شام بتی بجھا کر لیٹ جانا
 . 
نظریں جھکائے , انتہائی محویت سے , ڈوب کر قران کی تلاوت کرنا ,  سمجھ تو آنا شروع ہو جاتا ہے لیکن بہت دیر بعد , 
جب ہم خود راتوں کو جاگ جاگ کر ,دوسرے شہروں میں گئے بچوں پر آیت الکرسی کے دائرے پھونکتے ہیں
 . 
جب ہم سردی میں وضو کرتے ہوئے اچانک سوچتے ہیں ,پوچھ ہی لیں "بیٹا  آپکے ہاں  گرم پانی آتا ہے " 
جب قہر کی گرمی میں روم کولر کی خنک ہوا بدن کو چھو تی ہے تو پہلا احساس جو دل و دماغ میں ہلچل سی مچاتا ہے , وہ " کہیں اولاد گرمی میں تو نہیں بیٹھی "
جوان اولاد کے مستقبل , شادیوں کی فکر , ہزار تانے بانے جوڑتا باپ ,تھک ہار کر اللّه اور اسکی پاک کلام میں پناہ ڈھونڈتا ہے , تب یاد آتا ہے , ہمارا باپ بھی ایک ایک حرف ,ایک ایک آیت پر رک رک کر بچوں کی سلامتی ,خوشی ,بہتر مستقبل کی دعائیں ہی کرتا ہوگا .
ہر نماز کے بعد ,اٹھے کپکپاتے ہاتھ ,اپنی دعاؤں کو بھول جاتے ہونگے , ہماری طرح ہمارا باپ بھی ایک ایک بچے کو , نمناک آنکھوں سے اللّه کی پناہ میں دیتا ہوگا
 . 
سر شام کبھی کبھی , کمرے کی بتی بجھا کر , اس فکر کی آگ میں جلتا ہوگا کہ میں نے اپنی اولاد کے لئے بہت کم کیا 
اولاد کو باپ بہت دیر سے یاد آتا ہے , اتنی دیر سے کہ ہم اسے چھونے ,محسوس کرنے , اسکی ہر تلخی ,اذیت ,فکر کا ازالہ کرنے سے محروم ہو جاتے ہیں . یہ ایک عجیب احساس ہے ,جو وقت کے بعد اپنی اصل شکل میں ہمیں بےچین ضرور کرتا ہے . لیکن یہ حقیقتیں جن پر وقت پر عیاں ہو جائیں ووہی خوش قسمت اولادیں ہیں 
.
اولاد ہوتے ہوئے ہم سمجھتے ہیں
 باپ کا چھونا , پیار کرنا ,دل سے لگانا ,یہ تو بچپن کی باتیں ہیں . باپ بن کر آنکھیں بھیگ جاتی ہیں ,پتہ نہیں باپ نے کتنی دفعہ دل ہی دل میں , ہمیں چھاتی سے لگانے کو بازو کھولے ہونگے ? پیار کے لئے اسکے ہونٹ تڑپے ہونگے , اور ہماری بے باک جوانیوں نے اسے یہ موقعہ نہیں دیا ہوگا
 . 
ہم جیسے درمیانے طبقے کے سفید پوش لوگوں کی ہر خوائش ,ہر دعا ,ہر تمنا , اولاد سے شروع ہو کر اولاد پر ختم ہو جاتی ہے
 . 
لیکن کم ہی باپ ہونگے جو یہ احساس اپنی اولاد کو اپنی زندگی میں دلا سکے ہوں . یہ ایک چھپا ,میٹھا میٹھا درد ہے جو باپ اپنے ساتھ لے جاتا ہے ,اولاد کے  لئے, بہت کچھ کر کے بھی کچھ نہ کرسکنے کی ایک خلش , آخری وقت تک ایک باپ کو بے چین رکھتی ہے , اور 
یہ سب بہت شدت سے محسوس ہوتا ہے جب ہم باپ بنتے ہیں . بڑھاپے کی دہلیز پر قدم رکھتے ہیں . تو باپ کے دل کا حال جیسے قدرت ہمارے دلوں میں منتقل کر دیتی ہے
 . 
اولاد اگر باپ کے دل میں اپنے لئے محبت کو کھلی آنکھوں سے ,وقت پر دیکھ لے ,تو شاید اسے یقین ہو جائے کہ دنیا میں باپ سے زیادہ اولاد کا کوئی دوست نہیں ہوتا۔
...

**​

🎇🥀🌻🎆🎄🌴🌹🏝️🌹🌴🎄🎆🌻🎇🌻🎆🎄🌴🌹🎋🌹🌴🎄🎆🌻🥀🎇

Saturday, April 4, 2020

Adal aur Insaaf, Magar Kaisay

🌴🎇🏝️🎄🌻🎆🥀🎋🥀🎆🌻🎄🏝️🎇🌴🎇🏝️🎄🌻🎆🥀🎋🥀🎆🌻🎄🏝️🎇🌴

Adal aur Insaaf, Magar Kaisay

*ایک تمثیلی واقعہ کے ذریعے ایک بہترین سبق*


قانون کی جماعت میں استاد نے ایک طالب کو کھڑا کر کے اُس کا نام پوچھا اور بغیر کسی وجہ کے اُسے کلاس سے نکل جانے کا کہہ دیا۔ طالبعلم نے وجہ جاننے اور اپنے دفاع میں کئی دلیلیں دینے کی کوشش کی مگر اُستاد نے ایک بھی نہ سنی اور اپنے فیصلے پر مُصِّر رہا۔ طالبعلم شکستہ دلی سے اورغمزدہ باہر  تو نکل گیا مگر وہ اپنے ساتھ ہونے والی زیادتی کو ظلم جیسا سمجھ رہا تھا۔ حیرت باقی طلباء پر تھی جو سر جُھکائے اور خاموش بیٹھے تھے۔

لیکچر دینے کا آغاز کرتے ہوئے استاد نے طلباء سے پوچھا: قانون کیوں وضع کیئے جاتے ہیں؟ ایک طالبہ نے کھڑے ہو کہا: لوگوں کے رویوں پر قابو رکھنے کیلئے۔
دوسرے طالب نے کہا: معاشرے پر لاگو کرنے کیلئے۔
تیسرے نے کہا؛ تاکہ کوئی طاقتور کمزور پر زیادتی نہ کر سکے۔

استاد نے کئی ایک جوابات سننے کے بعد کہا: یہ سب جواباتُ ٹھیک تو ہیں مگر کافی نہیں ہیں۔ 

ایک طالبہ نے کھڑے ہو کر کہا: تاکہ عدل و انصاف قائم کیا جا سکے۔

استاد نے کہا: جی، بالکل یہی جواب ہے جو میں سننا چاہتا تھا۔ تاکہ عدل کو غالب کیا جا سکے۔

استاد نے پھر پوچھا: لیکن عدل اور انصاف کا کیا فائدہ ہوتا ہے؟

ایک طالب نے جواب دیا: تاکہ لوگوں کے حقوق کی حفاظت کی جا سکے اور کوئی کسی پر ظلم نہ کر سکے۔

اس بار استاد نے ایک توقف کے بعد کہا: اچھا، مجھ سے ڈرے بغیر اور بلا جھجھک میری ایک بات کا جواب دو، کیا میں نے تمہارے ساتھی طالبعلم کو کلاس روم سے نکال کر کوئی ظلم یا زیادتی کی ہے؟

سارے طلباء نے بیک زبان جواب دیا؛ جی ہاں سر، آپ نے زیادتی کی ہے۔

اس بار استاد نے غصے سے اونچا بولتے ہوئے کہا: ٹھیک ہے کہ ظلم ہوا ہے۔ پھر تم سب خاموش کیوں بیٹھے رہے؟ کیا فائدہ ایسے قوانین کا جن کے نفاذ کیلئے کسی کے اندر ھمت اور جراءت ہی نہ ہو؟ 

جب تمہارے ساتھی طالبعلم کے ساتھ زیادتی ہو رہی تھی اور تم اس پر خاموش بیٹھے تھے، اس کا بس ایک ہی مطلب تھا کہ تم اپنی انسانیت کھوئے بیٹھے تھے۔ اور یاد رکھو جب انسانیت گرتی ہے تو اس کا کوئی بھی نعم البدل نہیں ہوا کرتا۔

اس کے ساتھ ہی استاد نے کمرے سے باہر کھڑے ہوئے طالب کو واپس اندر بلایا، سب کے سامنے اس سے اپنی زیادتی کی معافی مانگی، اور باقی طلباء کی طرف اپنا رخ کرتے ہوئے کہا: یہی تمہارا آج کا سبق ہے۔ اور جاؤ، جا کر معاشرے میبں ایسی نا انصافیاں تلاش کرو اور ان کی اصلاح کیلئے قانون نافذ کرانے کے طریقے سوچو۔

🌴🎇🏝️🎄🌻🎆🥀🎋🥀🎆🌻🎄🏝️🎇🌴🎇🏝️🎄🌻🎆🥀🎋🥀🎆🌻🎄🏝️🎇🌴